اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق، امریکی حکام نے دعوی کیا ہے کہ امریکہ کا بحری بیڑہ اس وقت اس علاقے سے پیچھے ہٹا ہے کہ جب ایرانی بحریہ کے جہاز اس علاقے سے باہر گئے ہیں۔ امریکی حکام نے کہا کہ واشنگٹن یہ خیال کر رہا تھا کہ ایرانی بحریہ انصاراللہ کو ہتھیار فراہم کرنے کے درپے ہے، اسی لئے روزویلٹ طیارہ بردار بحری جہاز اور نارمینڈی جنگی جہاز سے کہا گیا کہ وہ یمن کی جانب روانہ ہوں۔ امریکی وزارت دفاع کے ایک عہدے دار نے اعلان کیا ہے کہ امریکی بحری بیڑہ بہت جلد خلیج عدن واپس چلا جائے گا۔ اس وقت خلیج عدن میں اور یمن کی بحری سرحدوں کے قریب سات امریکی جنگی بحری جہاز موجود ہیں۔ امریکی وزارت دفاع کے ترجمان اسٹیفن وارن نے کہا ہے کہ علاقے سے امریکی بحری بیڑے کے پیچھے ہٹ جانے کا مطلب یہ ہے کہ علاقے کے بحران کی شدت میں کمی واقع ہوئی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا تھا کہ امریکی بحریہ، یمن کے سمندری علاقے میں اس لئے بھیجی گئی ہے تا کہ بحری تجارت میں کوئی رکاوٹ پیش نہ آئے۔
.......
/169